فضائل و برکاتِ درود و سلام

 درود و سلام اللہ تعالیٰ کی ان با برکت نعمتوں میں سے ہے جو اپنے دامن میں بے پناہ فیوض و برکات سمیٹے ہوئے ہیں۔ یہ ایسی لازوال دولت ہے کہ جسے مل جائے اس کے دین و دنیا سنور جاتے ہیں۔ درود و سلام محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا خزانہ، گناہوں کا کفارہ، بلندیِ درجات کا زینہ، قربِ خداوندی کا آئینہ، خیر و برکت کا سفینہ ہے۔ مجلس کی زینت، تنگ دستی کا علاج، جنت میں لے جانے والا عمل، دل کی طہارت، بلاؤں کا تریاق، روح کی مسرت، روحانی پریشانیوں کا علاج، غربت و افلاس کا حل، دوزخ سے نجات کا ذریعہ اور شفاعت کی کنجی ہے۔

احادیث مبارکہ میں درود و سلام کے بے شمار فضائل و برکات کا ذکر ملتا ہے :

1۔ درود و سلام قربِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذریعہ ہے

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی سے والہانہ عقیدت و محبت جزوِ ایمان ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ درود و سلام پڑھنا، محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلیل ہے۔ کثرت سے درود و سلام پڑھنے والے کو روزِقیامت قربِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعمت سے فیض یاب کیا جائے گا۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

أوْلَی النَّاسِ بِي يَومَ القَيَامَةَ أَکْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً.

(ترمذی، الجامع الصّحيح، أبواب الوتر، باب ماجاء في فضل الصّلاة علی النّبي صلی الله عليه وآله وسلم، 1 : 495، رقم : 484)

’’قیامت کے روز لوگوں میں سے میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو اس دنیا میں کثرت سے مجھ پر درود بھیجتا ہے۔‘‘

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog